امر بالمعروف اور نہی از منکر کا واجب ہونا

امر بالمعروف اور نہی از منکر کا شمار اسلام کے انتہائی اہم اور عظیم واجبات میں سے ہوتا ہے۔ جو افراد اس عظیم الٰہی فریضے کو ترک کرتے ہیں یا اس کے سلسلے میں لاتعلقی کا مظاہرہ کرتے ہیں، گناہگار ہیں اور انتہائی سخت اور شدید عذاب ان کے انتظار میں ہے۔ امر بالمعروف اور نہی از منکر نہ فقط یہ کہ علمائے اسلام کی متفقہ رائے کی رو سے واجب ہے، بلکہ اس کا واجب ہونا دینِ مبین اسلام کی ضروریات میں سے شمار ہوتا ہے۔ 

 امر بالمعروف اور نہی از منکر کا دائرہ


 امر بالمعروف کا دائرہ لوگوں کے کسی مخصوص گروہ یا طبقے میں منحصر نہیں ہے بلکہ شرائط کے حامل تمام گروہوں اور طبقات کو شامل ہوتا ہے یہاں تک کہ بیوی بچوں پر واجب ہے کہ جب والدین یا شوہر کو کسی معروف کو ترک کرتے ہوئے یا حرام کو انجام دیتے ہوئے دیکھیں تو اس کی شرائط کے پائے جانے کی صورت میں امر بالمعروف اور نہی از منکر انجام دیں۔


 امر بالمعروف اور نہی از منکر اس موقع پر ہوتا ہے کہ جہاں کوئی شخص حکم شرعی کا علم رکھنے کے باوجود اور توجہ و التفات کے ساتھ خلاف ورزی کرے، تاہم ایسے افراد کی بابت کہ جو حکم شرعی سے لاعلمی یا جہل کی بنا پر گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں، ہدایت و رہنمائی کرنا ضروری ہے اور امر بالمعروف اور نہی از منکر واجب نہیں ہے۔ اسی طرح ایسے افراد کی بابت بھی کہ جو غفلت یا موضوع سے لاعلمی کی وجہ سے گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں، کوئی فریضہ نہیں مگر یہ کہ موضوع ان امور میں سے ہو کہ جو شارع مقدس کے نزدیک انتہائی اہم ہو تو اس صورت میں ضروری ہے کہ اس شخص کو حکم یا موضوع کی طرف توجہ دلائی جائے۔


leader_ahkam_ur@

بنیان مرصوص اسلامی فکری مرکز

ناخن لگانے کی کمائی

 سوال: کیا ناخن لگانے سے حاصل ہونے والی کمائی جائز ہے؟


جواب: اگر مصنوعی ناخن ہٹائے جاسکتے ہوں تو انہیں لگانا اور اس کا معاوضہ لینا بذات کوئی اشکال نہیں رکھتا لیکن اگر انہیں ہٹانا (نکالنا) ممکن نہ ہو یا غیر قابل تحمل مشقت رکھتا ہو تو ناخن لگانا (کسی ناقابل اجتناب ضرورت کے بغیر) اور اس کا معاوضہ وصول کرنا جائز نہیں ہے۔


leader_ahkam_ur@


بنیان مرصوص اسلامی فکری مرکز

لمبے ناخن کے ساتھ وضو اور غسل کرنا

 سوال: ناخن لمبا ہونے کی وجہ سے ناخن کے نیچے پانی پہنچنے میں رکاوٹ بنتے ہیں تو کیا یہ وضو کے باطل ہونے کا سبب بنتا ہے؟


جواب: صرف ناخن کا لمبا ہونا وضو میں رکاوٹ شمار نہیں ہوتا اور اس کے باطل ہونے کا سبب نہیں ہے، تاہم ناخن کی اس مقدار کے نیچے کہ جو معمول کی حد سے زیادہ لمبی ہے، اگر کوئی رکاوٹ ہو تو اسے برطرف کرنا ضروری ہے۔


leader_ahkam_ur@



بنیان مرصوص اسلامی فکری مرکز

آیة الکرسی

سوال: جن مقامات پر آیة الکرسی کی تلاوت کرنا ہوتی ہے ﴿جیسے نماز وحشت قبر﴾ اسے کہاں تک تلاوت کیا جائے؟ «و هو العلی العظیم» تک یا   «هم فیها خالدون» تک؟  


جواب: جہاں پر بھی آیة الکرسی کہا گیا ہو پہلی آیت ﴿«و هو العلی العظیم» تک﴾ مراد ہے مگر یہ کہ کسی جگہ پر بعد والی دو آیتوں( «هم فیها خالدون» تک) کی تصریح کی گئی ہو۔


leader_ahkam_ur@


بنیان مرصوص اسلامی فکری مرکز

کسی کی نیابت میں نماز پڑھنا اور روزہ رکھنا

 سوال: کیا وہ شخص کہ جس کے ذمے اپنی قضا نمازیں اور روزے ہوں ایسے شخص کی نمازیں اور روزے بجالاسکتا ہے کہ جو انتقال کرچکا ہے؟


جواب: نماز ادا کرنے میں کوئی حرج نہیں، تاہم روزے میں اگر اجیر بنا ہو تو اشکال نہیں رکھتا لیکن اگر اجارہ اور کسی معاوضے کے بغیر (مفت میں) انجام دے تو احتیاط واجب کی بنا پر روزہ صحیح نہیں ہے۔ البتہ بڑا بیٹا ہر صورت میں باپ کے روزوں کی قضا رکھ سکتا ہے۔


leader_ahkam_ur@

بنیان مرصوص اسلامی فکری مرکز

مستقبل کے لئے خریدے گئے لباس کا خمس

  سوال: میں نے اپنے بچوں کے لئے سال کے دوران کی کمائی سے اپنی حیثیت کے مطابق کچھ کپڑے خریدے ہیں لیکن فی الحال وہ ان کے سائز کے نہیں ہیں، کیا مجھے خمس کی تاریخ پر ان کپڑوں کا خمس دینا ہوگا؟ 


جواب: سوال کے مسئلے میں ان کپڑوں پر خمس دینا ہوگا۔


leader_ahkam_ur@


بنیان مرصوص اسلامی فکری مرکز


نماز کے دوران منہ سے خون نکلنا


سوال: اگر نماز کے دوران- مثلا دانت نکلوانے کی وجہ سے-  نماز پڑھنے والے کے منہ سے خون نکل آئے تو اس کی کیا ذمہ داری ہے؟ 


جواب: ضروری ہے کہ خون کو حلق سے نیچے نہ اتارے اور اگر خون نگلے بغیر اور لباس اور بدن کو نجس کئے بغیر نماز جاری رکھ سکتا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں اور نماز صحیح ہے۔


leader_ahkam_ur@

 

بنیان مرصوص اسلامی فکری مرکز

زندگی میں چار چیزیں کبھی نہ چھوڑیں


1 . شکر کرنا نہ چھوڑیں: ورنہ آپ نعمتوں کی کثرت اور اضافے سے محروم ہو جائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

{وَلَئِنْ شَکَرْتُمْ لَأَزِیْدَنَّکُمْ }

(اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو مزید دوں گا) (سورہ إبراہیم :آیت 7)


2 . اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ چھوڑیں :  ورنہ آپ اس سے محروم ہو جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو یاد رکھے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

{فَاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرْکُمْ }

(تم میرا ذکر کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا) (سورہ البقرة: آیت 152)


3 . دعا کرنا نہ چھوڑیں:  ورنہ حاجات کی برآوری سے محروم ہو جائیں گے؛ کیونکہ  اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

{أَدْعُوْنِیْ أَسْتَجِبْ لَکُمْ }

(تم مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا)* (سورہ غافر:آیت 60)


4 . استغفار نہ چھوڑیں : ورنہ نجات سے محروم ہو جائیں گے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

{وَمَا کَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ یَسْتَغْفِرُوْن}

(اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے والا نہیں ہے جب کہ وہ استغفار کرتے ہوں)(سورہ الأنفال :آیت 33)


بنیان مرصوص اسلامی فکری مرکز 

وائے ناکامی !متاع کارواں جاتا رہا

(حصہ دوم)

تحریر: تابعدار حسین

 جیسا کہ سابقہ تحریر میں بیان ہوا ہے(سابقہ تحریر حاصل کرنے کیلے یہاں کلیک کریں) آج کارواں کاملا بدون متاع باقی رہ گیا ہے اور اُن کی نظریں دوسروں کی متاع پہ ہیں کہ شاید دوسروں کی متاع ہمیں نجات دلائے اُدھر سے ستر سالہ قومی تجربہ بتاتا ہے کہ دوسروں کی متاع فقط اپنے صاحب کو فائدہ دیتی ہے ۔

ایک عظیم متاع جو ہم نے کھو دی ہے  جو ہماری شناخت و تشخص تھی اور آج ہمارا معاشرہ اس سرمایہ سے خالی ہے اور اُس ابزار تشخص سے محروم ہے وہ ہماری قومی زبان ہے ۔

آج ہم زمین پہ شاید اُن نادر اقوام میں سے ہیں جنکے ملک میں اُنکی اپنی زبان قانونی طور پر و عملی طور پر نافذ نہیں ہے اور یہ امر قوموں کے زوال کی علامت ہے البتہ حکمران طبقہ جوکہ مغرب کے غلام ہیں ، ظاہری طور پر (اُردو ہماری قومی زبان ہے) کی رٹ لگاتے ہیں لیکن عملا مغرب نواز ہیں اور انکے دفتروں میں تمام دفتری امور انگریزی میں انجام پاتے ہیں حتیٰ ان کی شخصی زندگی تک غلامی نے سرایت کی ہوئی ہے  اور پھر اس غلامی نے صاحب اقتدار طبقہ سے عوام میں سرایت کی ہے ، لوگوں کا دین تو ویسے حکمرانوں کا دین ہوا کرتا ہے ؛ دین الناس علی ملکوہ اور یہ غلامی ایک بڑی زنجیر ہے جس کو توڑنے میں ہی قوم کی نجات ہے وگرنہ ہمیشہ غلام ہی رہیں گے ۔

القصہ! ابدی موت مرجانا غلام قوموں ہی کا مقدر ہوتا ہے

نے نصیب مارو کثردم نے نصیب دام دو

ہے فقط محکوم قوموں کیلئے مرگ ابد!

 

آج ہمارے تمام تعلیمی اداروں کا نصاب انگریزی زبان میں ہے اور ان تعلیمی اداروں میں طالب علموں کو یہ باور کرایا گیا ہے کہ جو انگریزی زبان پڑھنا ،لکھنا سیکھ جائے و ہ سب سے زیادہ پڑھا لکھا و عالم انسان ہے ۔

جبکہ ناداں یہ نہیں جانتے کہ زبان اور علم کے درمیان فرق ہے ہر وہ انسان جو  زبان سیکھ جائے وہ عالم نہیں کہلاتا بلکہ علم و زبان دو جدا چیزیں ہیں ۔

آزادی افکار ہے ان کی تباہی

رکھتے نہیں جو فکر و تدبر کا سلیقہ

یہ وہی نقطہ انحراف ہے جہاں سے ٹرین کا پٹری سے کانٹا بدلا گیا اور ٹرین کو کہیں اور موڑ دیا گیا اور ہم ناداں یہ سمجھ بیٹھے کہ سَر نے ہماری تقدیر بدل دی ہے اوراب ہم ترقی کی طرف جارہے ہیں جبکہ دشمن نے بہت ہی آسانی سے ہمارا رُخ زوال کی طرف پھیر دیا  اور ہم نے احساس تک نہیں کیا ، اس طرح سے کہ کارواں کا یہ رُخ پھیرنا کارواں کو اتنا پسند آیا کہ کارواں کے دل سے احساس زیاں تک نکل گیا ۔

وائے ناکامی متاع ! کارواں جاتا رہا

کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

اور آج کارواں کی یہ حالت ہے کہ تمام تر متاع لٹانے کے باوجود احساس زیاں پیدا نہیں ہوا ، بیدار دشمن نے ہمیں سُلا کے رکھ دیا اور اب جو بیدار شخص بھی اس کارواں کو جگانا چاہتا ہے وہ اس کارواں کو بُرا لگتا ہے  اور دشمن یہی چاہتا تھا کہ یہ کارواں سوتا ہی رہے اور دشمن کا یہ حربہ کارآمد ثابت ہوا  ۔


خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر 
پھر سُلا دیتی ہے اس کو حکمراں کی ساحری 
جادوئے محمود کی تاثیر سے چشمِ ایاز 
دیکھتی ہے حلقۂ گردن میں سازِ دلبری(1)

جب ہم نے یہ متاع لٹا دی تو آج ہم اس قدر اندر سے خالی و کھوکھلے ہو گئے کہ ہر چیز میں دوسروں کے محتاج و غلام بن کے رہ گئے اور افسوس کہ ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ دنیا میں ہم اس قدر گر گئے کہ آج2024 میں پاکستانی سبز پاسپورٹ ارزش و قیمت کے لحاظ سے دنیا میں نیچے سے پانچویں نمبر پر آیا ہے یہ حالت ایک دفعہ سے نہیں ہوئی بلکہ آہستہ آہستہ اس حالت تک لایا گیا ، لیکن جس قوم کے اندر سے روح نکال دی گئی ہو ، اُس کی مثال اُس بدن سی ہے کہ جس کو سُن کر کے اُس کے اندر سے گرُدہ یا کوئی اور عضو نکال دیا جاتا ہے اور اُس بدن کو احساس تک نہیں ہوتا ۔

تھا جو ’نا خوب‘ بتدریج وہی ’خوب‘ ہوا 
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر ! (2)

 

 

 1۔ (سلطنت، خضر راہ ، بانگِ درا)

2 ۔ (تن بہ تقدیر، ضرب کلیم)

بنیان مرصوص اسلامی فکری مرکز

تشخص



تعریف تشخص

 

اگر ہم سادہ و آسان فھم تعریف کریں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ تشخص ایسی چیز کو کہتے ہیں جو کسی ذات کی پہچان کروائے یا آسان الفاظ میں جو کسی ذات کی پہچان و شناخت کا سبب و زریعہ بنے ، جیسے زبان انسان کی پہچان کرواتی ہے کہ یہ انسان کس سرزمین سے تعلق رکھتاہے یا اس کو کس زمین نے اپنے اندر جنم دیا ہے ،لہذا زبان انسان کا تشخص ہے۔



بنیان مرصوص اسلامی فکری مرکز