
قم المقدس میں شهادت حضرت جعفر طیار علیه السلام کے موقع پر صدائے اُمید آ رگنائزیشن کی طرف سےایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں شرکاء نے اپنی عقیدت کا مختلف انداز میں اظهار کیا ، اس پروگرام میں مولانا تابعدار حسین هانی نے خطاب فرمایا جس میں انہوں نے اپنے خطاب میں امت مسلمہ پر زور دیا کہ وہ اسلامی تاریخ کی ان عظیم ہستیوں کو فراموش نہ کریں جن کے اسلام پر عظیم احسانات ہیں۔
انہوں نے اپنے خطاب میں درج ذیل نکات پر روشنی ڈالی
خلاصہ
حضرت جعفر طیار (ع) کو رسول اللہ (ص) اور امیرالمؤمنین (ع) کے ہاں جو بلند مقام و مرتبہ حاصل تھا، اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نہج البلاغہ میں ان کے تذکرے کو یاد کیا۔
ان کے دوسرے مسلمان ہونے کے اعزاز اور بین الاقوامی مبلغ کی حیثیت سے ان کی خدمات کو اجاگر کیا۔
حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے سامنے آپ کے مدلل اور مؤثر مناظرے کو جدید دور کے مبلغین کے لیے ایک نمونہ قرار دیا۔
اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ آج امت میں ان جیسی مرکزی شخصیات کو نظرانداز کیا جاتا ہے، جبکہ حاشیائی شخصیات کو نمایاں کیا جاتا ہے۔
مکمل خطاب
عنوان: حضرت جعفر طیار علیہ السلام کی عظمت اور امت اسلامی کی غفل
میں تقریباً دس منٹ کی زحمت پیش کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں، تاکہ حاضری کی رسم پوری ہو جائے۔ اگر میرے موضوع پر دوستوں میں سے کوئی بات کرتا تو شاید میں آپ کو زحمت نہ دیتا ، لیکن چونکہ مناسبت بھی تھی اور دوستوں نے اشارہ نہیں کیا، اس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ آپ کو چند منٹ کی زحمت دوں۔
حضرت جعفر طیار علیہ السلام کی شہادت اور اہمیت
چند دن پہلے حضرت جعفر طیار علیہ السلام کی شہادت کا دن تھا۔ افسوس ہے کہ امت اسلامی، جو صحابہ اور اہل بیت کے نعرے لگاتی ہے، ان ہستیوں کو بھول جاتی ہے جن کا اسلام پر بہت بڑا احسان ہے۔ حضرت حمزہ اور حضرت جعفر طیار جیسی شخصیات کا مقام و منزلت صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی جانتے ہیں۔
حضرت جعفر طیار کی شہادت پر امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا: " الان قد انفصم ظھری میری کمر ٹوٹ گئی ہے ، آپ نے فرمایا: جعفر! وما جعفر ؟ وما ادراک جعفر ؟تمہیں کیا معلوم جعفر کون تھے؟ جعفر کیا شخصیت تھی؟" لیکن افسوس، امت میں منافقت پائی جاتی ہے،ہم حاشیے کی شخصیات کو اپناتے ہیں، لیکن حضرت جعفر جیسی برجستہ شخصیات کو کوئی یاد نہیں کرتا، حالانکہ نہج البلاغہ میں امیر المومنین علیہ السلام نے ان کا نام لے کر اہتمام سے تذکرہ فرمایا ہے۔
حضرت جعفر، امیر المومنین علیہ السلام کے بھائی تھے اور ان سے بڑے تھے، ترتیب یہ تھی: حضرت طالب، حضرت عقیل، حضرت جعفر اور حضرت علی علیہم السلام ،حضرت ابوطالب کی ان اولادوں کے درمیان دس دس سال کا فاصلہ تھا،حضرت ابوطالب کا نام "عمران" یا "عبدالمناف" بتایا جاتا ہے، لیکن وہ اپنے بڑے بیٹے "طالب" کی وجہ سے ابوطالب کے نام سے مشہور ہوئے۔
حضرت جعفر نے اسلام قبول کرنے میں دوسرا نمبر حاصل کیا ، پہلے نمبر پر امیر المومنین علیہ السلام ہیں اور دوسرے پر حضرت جعفر علیہ السلام ، علامہ اقبال کے شعر "مسلم بن اول شاہ مرداں علی" لیکن مسلم دوم حضرت جعفر طیار ہیں، اس کے باوجود، امت میں ان کے بارے میں غفلت اور معلومات کا فقدان ہے۔
حضرت جعفر بین الاقوامی مبلغ تھے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حبشہ بھیجے جانے والے قافلے کا رئیس بنایا وہ مکمل معنوں میں مبلغ تھے۔
رہبر معظم نے مبلغین کو گزارش کی کہ ہماری تبلیغی روش اب تک دفاعی رہی ہے، جبکہ اب دفاعی پوزیشن سے نکل کر حملہ آور روش اپنانی چاہیے۔ مغرب میں انسانیت پامال ہو رہی ہے، اس لیے دنیا کو اسلام کا صحیح پیغام پہنچانا چاہیے، نہ کہ صرف جوابی موقف اختیار کیا جائے۔
حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے سامنے، جب مہاجرین کے خلاف شکایات کی گئیں، تو حضرت جعفر نے موقع کے مطابق ایسی آیات پڑھیں جو سامنے والے کے عقیدے (حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام) سے متعلق تھیں انہوں نے کہا: "ہمارا دین وہی ہے جو عیسیٰ مسیح کا تھا،ق" اس حکمت عملی کا نتیجہ یہ ہوا کہ نجاشی نے انہیں حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔
أَنَّ رَسُولَ اَللَّهِ ص لَمَّا جَاءَهُ جَعْفَرُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ مِنَ اَلْحَبَشَةِ قَامَ إِلَیْهِ وَ اِسْتَقْبَلَهُ اِثْنَتَیْ عَشْرَةَ خُطْوَةً وَ عَانَقَهُ وَ قَبَّلَ مَا بَیْنَ عَیْنَیْهِ وَ بَکَى وَ قَالَ لاَ أَدْرِی بِأَیِّهِمَا أَنَا أَشَدُّ سُرُوراً بِقُدُومِکَ یَا جَعْفَرُ أَمْ بِفَتْحِ اَللَّهِ عَلَى أَخِیکَ خَیْبَرَ وَ بَکَى فَرَحاً بِرُؤْیَتِهِ
جب حضرت جعفر حبشہ سے واپس آئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بارہ قدم استقبال کے لیے آگے بڑھے، انہیں گلے لگایا، ان کی آنکھوں کا بوسہ لیا اور خوشی کے آنسو بہائے۔ آپ نے فرمایا: "مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ کس چیز پر زیادہ خوش ہوں؟ تمہارے آنے پر یا اس پر کہ تمہارے بھائی علی نے خیبر فتح کیا ہے؟"
أَمَا وَاللهِ لَوْ أَنَّ حَمْزَةَ وَجَعْفَراً کَانَا بِحَضْرَتِهِمَا مَا وَصَلاَ إِلَی مَا وَصَلاَ إِلَیْهِ،وَ لَو کانَا شَاهِدَیهِما لاتَبَقا نَفسَیهِمَا : امیر المومنین علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں فرمایا: "اگر حمزہ اور جعفر زندہ ہوتے، تو کسی میں میرا حق غصب کرنے کی جرت نہ ہوتی" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی فرمایا: "حضرت جعفر جنت میں پرواز کریں گے، خدا نے انہیں دو پر عطا کیے ہیں۔"
حضرت حمزہ، حضرت جعفر، حضرت خدیجہ اور حضرت ابوطالب جیسی شخصیات کو فراموش کرنا یا متنازعہ بنانا یہودیت کے منصوبے کا حصہ تھا ،جو صحابہ امیر المومنین علیہ السلام کے قریب تھے، وہ سب شہید ہوئے، جیسے حضرت عمار، مالک اشتر، میثم تمار اور ابوذر ،لیکن امت مسلمہ میں ان برجستہ شخصیات کا تذکرہ نہیں ہوتا، بلکہ حاشیے کی شخصیات کو سر فہرست رکھا جاتا ہے۔
حضرت جعفر پہلے مبلغ تھے جنہوں نے اسلام کو افریقہ پہنچایا، لیکن آج مسلمان ان کا تذکرہ نہیں کرتے ، اس کے برعکس، جن لوگوں نے انہیں گرفتار کرنے کے لیے وفد بھیجا تھا، انہیں اسلام کا علمبردار پیش کیا جاتا ہے ،مسلمانوں کی صداقت پر سوال اٹھتا ہے، کیونکہ ان کی محفلوں، مجالس یا مدارس میں حضرت جعفر طیار کا ذکر نہیں ہوتا، جو بین الاقوامی مبلغ تھے۔